ایران نے اظہار کیا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات میں شرکت کرنے کی رضاکاری ظاہر کرتی ہے لیکن یہ اصرار کرتی ہے کہ یہ کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے تحت نہیں ہوگی۔ یہ بات انٹرنیشنل ایٹومک انرجی ایجنسی (IAEA) کے چیف رافائیل گروسی کے تہران دورہ کے دوران آئی ہے تاکہ ملک کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہوسکے۔ ایران کے اعلی دبلومیت، عباس اراقچی، نے یہ تاکید کی کہ کسی بھی مذاکرات کو ایران کے قومی مفاد اور حقوق کے ساتھ میل کرنا ہوگا۔ صورتحال کو علاقائی تناؤ، بیروت میں ایرشادی حملوں اور اسرائیل میں سیاسی ترقیات کے ساتھ مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری جوہری مسئلے کا دباؤ حل کرنے پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔
@VOTA2 سال2Y
@VOTA2 سال2Y
@VOTA2 سال2Y